ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘ نعرہ سے متاثر خاتون صحافی ندا احمد نے صحافت کو کیا الوداع، سیاست میں رکھا قدم

’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘ نعرہ سے متاثر خاتون صحافی ندا احمد نے صحافت کو کیا الوداع، سیاست میں رکھا قدم

Wed, 19 Jan 2022 21:24:27    S.O. News Service

مراد آباد،19؍جنوری (ایس او نیوز؍ناظمہ فہیم) کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے لڑکی ہوں لڑسکتی ہوں سے متاثر ہوکر کئی ٹی وی چینلوں میں اینکر رہی نِدا احمد نے صحافت کو الوداع کرتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئی ہیں۔

 ندا احمد کا کہنا ہے کہ سیاست میں جو لوگ بہت زیادہ وعدے کر تے ہیں، وہ کچھ نہیں کرتے، اس لئے میں وعدے نہیں کروں گی، بلکہ کچھ کر کے دکھانا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی برانڈ لیڈر پر ینکا گاندھی نے مجھے یہ موقع دیا ہے کہ میں اپنے علاقے کے عوام کے لئے کچھ کردکھاوں۔

ندا نے بتایا کہ پرینکا گاندھی کے اس نعرے ’لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں‘  نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ صحافت میں عوامی خدمات کے لئے ایک حد بندی ہے کیونکہ آپ جس ادارے سے جڑے ہوتے ہیں اس کے مطابق آپ کو کام کرنا ہوتا ہے مگر سیاست کی زمین عوامی فلاح بہبود کے کام کرنے کے لئے بہت بڑی ہے۔ ندا نے کہا کہ حرکت کرنے کا کام ہمارا ہے اور برکت کرنے کا کام ﷲ کا ہے۔

نِدا احمد آج تک نیوز، نیوز18 اور زی نیوز جیسے کئی چینلوں میں کام کرچکی ہیں 

ندا کے دادا سنبھل میں سن 1952ء میں کانگریس کے چیئر مین رہے، یہی ان کی سیاسی میراث ہے۔ ندا جس علاقے کی رہنے والی ہیں وہاں کے قد آور لیڈر ڈاکٹر برق ہیں۔ ندا کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہر شعبہ میں آگے آنا چاہئے، یہی سوچ کر میں نے سیاست میں قدم رکھا ہے۔ حالانکہ ندا کا زیادہ تر وقت صحافتی پیشہ کی وجہ سے دہلی میں کٹا ہے، سنبھل میں ان کی آمد و رفت کم ہی رہی ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ سنبھل میں میرے خاندان کی جڑیں ہیں اور میں خود یہیں پیدا ہوئی ہوں اس لئے سنبھل کی ترقی اور یہاں کے عوام کے لئے کچھ کر گزرنا میری اولین خواہش ہے۔

اس دوران انہوں نے موجودہ اسمبلی ممبر اقبال محمود پر بھی سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہاں کے عوام نے جنتے موقعے دیئے ہیں انہوں نے یہاں کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔ ندا نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہی ملک کے سیکولزم کو مضبوط بنائے رکھنے اور ملک کی ترقی میں اہم کر دار ادا کرتی رہی ہے اس لئے عوام کی رائے بن رہی ہے کہ وہ کانگریس کو ہی اپنی نمائندگی دے۔

ندا احمد نے صاف طور پر کہا کہ خواتین کے حقوق کو لگا تار پامال کیا جا رہا ہے اور ان کے تحفظ کی بات تو ہوتی ہے مگر اس پر عمل در آمد نہیں ہوتا اور یہ صرف اس لئے ہے کہ خواتین کی نمائندگی سیاست میں بہت کم ہے۔ یہ موقع کانگریس نے دیا ہے کہ خواتین کو مضبوط سیاسی نمائندگی حاصل ہو۔ کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی و کانگریس کی برانڈ لیڈر پرینکا گاندھی کی موجودگی اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ کانگریس ہی وہ واحد جماعت ہے جو خواتین کو وہ طاقت دینا چاہتی ہے جس پر خواتین کا حق ہے۔

ندا نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کانگریس نے 40 فیصد خواتین کو سیاست میں نمائندگی دینے کا جو اعلان کیا تھا اس پر عمل در آمد کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ کانگریس جو کہتی ہے وہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرینکا گاندھی کی قیادت میں خواتین کا سیاسی مستقبل روشن ہے۔ خواتین جو اپنی ذمہ داریاں نبھاتی ہوئی اپنے خاندان کو سنوارتی سجاتی ہیں وہ خواتین اگر سیاست میں کسی مقام تک پہنچیں گی تو یقیناً یہ ملک اور یہاں کے عوام کا مستقبل بھی روشن ہو جائے گا۔


Share: